ساحل آن لائن - سچائی کا آیئنہ

Header
collapse
...
Home / ساحلی خبریں / ’یونیسکو‘ میں قرارداد پراسرائیل اور جرمنی میں کشیدگی،یورپی یونین۔عرب ممالک کی مشترکہ قرارداد پر اسرائیل سیخ پا

’یونیسکو‘ میں قرارداد پراسرائیل اور جرمنی میں کشیدگی،یورپی یونین۔عرب ممالک کی مشترکہ قرارداد پر اسرائیل سیخ پا

Tue, 02 May 2017 10:57:17    S.O. News Service

رام اللہ،یکم مئی(ایس او نیوز؍آئی این ایس انڈیا)اقوام متحدہ کے ادارہ برائے سائنس وثقافت ’یونیسکو‘ میں بیت المقدس کے بارے میں اسرائیلی موقف کے خلاف قرارداد پیش کرنے کے معاملے پر جرمنی اور اسرائیل کے درمیان کشیدگی سامنے آئی ہے۔ اسرائیلی وزارت خارجہ کے ذمہ داران کا کنا ہے کہ جرمنی نے ’یونیسکو‘ کی انتظامی کمیٹی میں اسرائیل مخالف قرارداد روکنے میں نہ صرف کوئی کردار ادا نہیں کیا بلکہ برلن نے عرب ممالک کیساتھ ساز باز کرکے یورپی ملکوں کو بھی قرارداد کے خلاف رائے شماری میں حصہ لینے سے روکنے کی کوشش کی ہے۔اسرائیلی وزارت خارجہ کے ایک عہدیدار نیاپنی شناخت ظاہر نہ کرنے کی شرط پر بتایا کہ ’یونیسکو‘ میں کل منگل کو پیش کی جانے والی قرارداد ایک حساس معاملہ ہے۔ یہ قرارداد عرب ممالک کی طرف سیپیش کی جائے گی جس میں بیت المقدس میں اسرائیلی سرگرمیوں کی سخت مخالفت کی گئی ہے۔انہوں نے بتایا کہ گذشتہ ہفتے اسرائیلی وزارت خارجہ کے ڈائریکٹر جنر الون اوشفیز نے تل ابیب میں متعین جرمن سفیر کالمنس فون گیٹزا سے بھی بات کی تھی۔ انہوں نے جرمن سفیر پرواضح کیا تھا کہ جرمنی کو ’یونیسکو‘ میں اسرائیل مخالف قرارداد کی حمایت سے باز رہنا چاہیے۔خیال رہیکہ جرمنی اور اسرائیل کے درمیان تازہ تناؤ ایک ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب اسرائیلی وزیراعظم بنجمن نیتن یاھو نے دو روز قبل بیت المقدس کیدورے پرآئے جرمن وزیرخارجہ زیگمار گبرییل سے ملاقات سے انکار کردیا تھا۔

کل منگل کو ایک ایسے وقت میں جب اسرائیل اپنی آزادی کا جشن منا رہا ہے ’یونیسکو‘ میں ایک مسودہ قرارداد پیش کیے جانے کا امکان ہے۔ یونیسکو ایسی ہی ایک قرارداد پہلے بھی منظور کرچکا ہے جس میں واضح طور پر کہا گیا تھا کہ حرم القدسی کے ساتھ یہودیوں کا کوئی مذہبی تعلق نہیں بلکہ یہودیوں کا دیوار گریہ کے ساتھ مذہبی تعلق بھی مشکوک ہے۔ نئی قرارداد پہلے سے زیادہ پیچیدہ ہے کیونکہ جرمنی کی حمایت سے یورپی یونین کے سفیر اور عرب ممالک نے اس قرار داد پر ہونے والی رائے شماری کے دوران یکساں موقف اپنانے کا عندیہ دیا ہے۔

یورپی ملکوں اور عرب ممالک کے درمیان طے پائے سمجھوتے کے تحت قرارداد کے نئے مسودے میں سابقہ قرارداد میں بیان کیے گئے بعض الفاظ ختم کردییگئے ہیں۔ نئی قرارداد میں مسجد اقصیٰ اور حرم شریف کا ذکر نہیں۔ اس کے ساتھ ساتھ ایک نئی عبارت کا اضافہ کرتیہوئے کہا گیا ہے کہ بیت المقدس آسمانی مذاہب کے پیروکاروں، یہودیوں، عیسائیوں اور مسلمانوں کیلیے یکساں مقدس مقام ہے۔نئی قرارداد میں ترامیم کے باوجود اسرائیل کو اس پر شدید اعتراضات ہیں۔یہی وجہ ہے کہ صہیونی ریاست نے عرب ممالک اور یورپی یونین کے درمیان مفاہمت کو بھی مسترد کردیا ہے۔ اسرائیل نے نئی مجوزہ قراردادو کو بھی ’سیاسی‘ قرار دے کر اس پر یورپی ملکوں بالخصوص جرمنی کو کڑی تنقید کا نشانہ بنایا ہے۔اسرائیل برہمی کی ایک اہم وجہ یہ ہے کہ قرارداد میں اسرائیل کو بیت المقدس میں ایک ’قابض‘ قرار دیا گیا ہے اور کہا ہے کہ مشرقی بیت المقدس پر اسرائیلی قبضے کا کوئی جواز نہیں۔ اسی طرح قرارداد میں اسرائیل کی غزہ کے بارے میں پالیسی اور غرب اردن میں الخلیل شہر میں قائم حرم ابراہیمی کے حوالے سے اقدامات کو بھی تنقید کا نشانہ بنایا گیا ہے، جس پر صہیونی ریاست سیخ پا ہے۔


Share: